بنگلورو۔22؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاست کی کمار سوامی کابینہ میں آج آٹھ کانگریسی وزراء کی شمولیت کے ساتھ توسیع کردی گئی جس کے ساتھ ہی کانگریس اور جے ڈی ایس میں برگشتگی کی ایک نئی لہر اٹھتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
آج راج بھون میں منعقدہ تقریب کے دوران گورنر واجو بھائی والا نے نئے وزیروں کو عہدے اور راز داری کا حلف دلایا۔ کابینہ میں توسیع کے مرحلے میں کمار سوامی کی موجودہ وزارت کے دو وزراء رمیش جارکی ہولی اور آر شنکر کو ہٹادیا گیا۔ آج کابینہ میں شمولیت کا حلف لینے والوں میں سینئر کانگریس لیڈر اور بیجاپور کے ببلیشور حلقے سے رکن اسمبلی ایم بی پاٹل سر فہرست رہے۔ پچھلی سدرامیا کابینہ میں وہ محکمۂ آبی وسائل کے انتہائی اہم قلمدان پر فائز رہے۔کمار سوامی کابینہ کی تشکیل کے بعد سے ہی وہ کابینہ میں شمولیت کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے، آخر کار کل صدر کانگریس راہل گاندھی نے ایم بی پاٹل کی کابینہ میں شمولیت کو منظوری دے دی۔
رکن کونسل آر بی تما پور نے بھی آج ریاستی کابینی وزیر کے طور پر حلف لیا۔ نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر پرمیشور کے اقرباء میں شمار کئے جانے والے آر بی تماپور سدرامیا کابینہ میں بھی وزیر رہے۔ کمار سوامی کابینہ کی تشکیل کے مرحلے میں چھ ماہ قبل وزارت میں شمولیت کا موقع نہ ملنے پر علم بغاوت بلند کرنے والے سی ایس شیوللی کو اس بار کابینہ میں شمولیت کا موقع دیا گیا۔تیسری بار رکن اسمبلی کے طور پر منتخب شیوللی کو پہلی بار وزارت کا تجربہ حاصل ہورہاہے۔ جارکی ہولی برادران میں بڑے ستیش جارکی ہولی کو آج کابینہ میں ان کے چھوٹے بھائی رمیش جارکی ہولی کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔ بلگاوی کے ایم کنامرڈی حلقے سے منتخب ستیش جارکی ہولی اے آئی سی سی کے سکریٹری ہیں، اور سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کے اقرباء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بلاری کے ہوونا ہڑگلی سے منتخب سابق وزیر پی ٹی پرمیشور نائک کو ایک بار پھر کمار سوامی کابینہ میں شمولیت کا موقع آج میسر آیا۔ پچھلی سدرامیا کابینہ میں وزیر محنت کے طور پر خدمت انجام دینے والے پی ٹی پرمیشور نائک کو ضلع کی ایک ڈی ایس پی سے تکرار کے بعد پیدا شدہ تنازعے کے سبب مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اب دوبارہ انہیں وزارت میں شمولیت کا موقع ملا ہے۔
کانگریس کے ایک اور سینئر رکن اسمبلی ای توکارام کو بھی آج وزارت میں شامل کیا گیا۔ بیدر نارتھ اسمبلی حلقے سے منتخب رحیم خان کابینہ میں آج شامل ہونے والے واحد اقلیتی نمائندہ ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کے اقرباء میں شمار کئے جانے والے رحیم خان کو کابینہ میں کانگریس پارلیمانی پارٹی لیڈر ملیکارجن کھرگے اور سدرامیا کی سفارش پر شامل کیاگیا ہے۔ حلف برداری میں رحیم خان نے بزبان انگریزی اﷲ کے نام پر اپنے عہدے اور راز داری کا حلف اٹھایا۔ کابینہ میں شامل ہونے والے آٹھویں وزیر ایم ٹی بی ناگراج کروبا فرقے سے وابستہ ہیں اور دوسری بار ہوسکوٹے اسمبلی حلقے سے منتخب ہوئے ہیں۔ان کا شمار بھی سدرامیا کے اقرباء میں کیا جاتا ہے۔
وزارت سے برطرفی پر آر شنکر ناراض
ریاستی وزارت سے برطرف کئے جانے پر کمار سوامی کابینہ میں وزیر جنگلات رہ چکے آر شنکر نے مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ بحیثیت وزیر جنگلات انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے، لیکن کانگریس قائدین نے نہ جانے کیوں وزارت سے ہٹانے کے معاملے میں انہیں نشانہ بنایا ہے۔ شنکر نے کہاکہ کس وجہ سے انہیں ہٹایا گیا ہے وہ نہیں جانتے۔ کانگریس قائدین کو چاہئے کہ اس کی وجہ اپنے ہی ضمیر کو ٹٹول کر ڈھونڈیں۔ انہو ں نے کہاکہ مخلوط حکومت کی تشکیل کے مرحلے میں کانگریس کے ساتھ مستحکم ہوکر کھڑے رہنے کا صلہ انہیں وزارت سے ہٹا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات غلط ہے کہ انہوں نے کانگریس میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا، بلکہ وہ پارٹی میں شامل ہونے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کررہے تھے۔ کانگریس قائدین سے وہ بہت جلد سوال کریں گے کہ آخر انہیں وزارت سے کیوں ہٹایا گیا۔
کابینہ میں توسیع کے ساتھ برگشتگی کی ایک نئی لہر
بورڈز اور کارپوریشنوں کے عہدے قبول کرنے سے بیشتر اراکین اسمبلی کا انکار
ریاستی کابینہ میں توسیع کے ساتھ ہی کانگریس اور جے ڈی ایس میں برگشتگی کی ایک نئی لہر اٹھی۔ وزارت سے برطرف رمیش جارکی ہولی نے حالانکہ انہیں وزارت سے ہٹانے کے متعلق کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، لیکن ان کے خیمے سے یہ واضح اشارے ملے ہیں کہ کل تقریباً دس اراکین اسمبلی سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا سے ملاقات کریں گے اور اس ملاقات کے بعد وہ اپنا مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔ دوسری طرف ریاستی وزارت ملنے کی امید میں مہینوں سے منتظر ہیرے کیرور کے رکن اسمبلی بی سی پاٹل نے وزارت سے انہیں محروم رکھنے والے کے لئے سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، انہوں نے کہاکہ اب تک وہ سدرامیا پر بھروسہ کرتے رہے۔ لیکن انہیں یقین نہیں تھاکہ سدرامیا ان کے ساتھ ناانصافی ہونے دیں گے۔ اب جبکہ کابینہ میں توسیع ہوچکی ہے، وہ اپنے حلقے کے عوام اور پارٹی کارکنوں سے مشورے کے بعد اپنا مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔
اسی طرح بی ٹی ایم لے آؤٹ کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر رام لنگا ریڈی نے بھی وزارت میں انہیں جگہ نہ دئے جانے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سات بار اسمبلی کے لئے منتخب نمائندے کو نظر انداز کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ اس کا جواب پارٹی قائدین ہی دے سکتے ہیں۔ رام لنگا ریڈی کے حامیوں نے آج کے پی سی سی دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تو دوسری طرف وزیر اعلیٰ کے پارلیمانی سکریٹریوں کی فہرست میں رام لنگا ریڈی کی دختر اور جے نگر کی رکن اسمبلی سومیا ریڈی کا نام شامل تھا، جسے آخری لمحوں میں حذف کردیا گیا۔
وزارت سے محروم متعدد اراکین اسمبلی کو سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کی چیرمین شپ کا اعلان کیاگیا ۔جن میں سے بیشتر نے ان عہدوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ شانتی نگر اسمبلی حلقے کے رکن این اے حارث کو بنگلور میٹرو پولیٹن ریل ٹرانسزٹ کارپوریشن (بی ایم آر ٹی سی) کی چیرمین شپ دینے کا اعلان کیا گیا، لیکن این اے حارث نے یہ عہدہ قبول کرنے سے صاف انکار کردیاہے، انہوں نے کہا ہے کہ کل وہ سدرامیا سے ملاقات کریں گے اور اپنے موقف سے انہیں واقف کرادیں گے۔ اسی طرح دیگر سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے لئے مقرر اراکین اسمبلی نے بھی وزارت میں جگہ دینے کی بجائے چیرمین شپ دئے جانے پر اپنی ناراضی ظاہر کی ہے۔
جے ڈی ایس میں بھی ناراضی: ریاستی کابینہ میں توسیع کے مرحلے میں صرف کانگریس کے وزراء کو شامل کئے جانے اور مخلوط حکومت کے اتحاد میں شامل جے ڈی ایس کو خاطر میں نہ لانے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کے فیصلے پر متعدد جے ڈی ایس قائدین نے برہمی ظاہر کی ہے۔ ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کے سابق چیرمین بسوراج ہوراٹی جن کی وزارت میں شمولیت یقینی سمجھی جارہی تھی نے کابینہ میں توسیع کے مرحلے میں جے ڈی ایس کے وزراء کو شامل نہ کئے جانے کے فیصلے پر حیرت ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کابینہ میں جب توسیع ہوہی رہی ہے تو جے ڈی ایس کے دو نمائندوں کو شامل کرلینے میں کیا حرج تھا۔ اسی طرح جے ڈی ایس سے وزارت کے دیگر دعویداروں نے بھی کابینہ میں توسیع پر جے ڈی ایس کو موقع نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
کمار سوامی کی وضاحت: ریاستی کابینہ میں جے ڈی ایس کو موقع نہ دئے جانے کے متعلق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کہا ہے کہ جے ڈی ایس اپنی کابینہ کی بقیہ نشستوں کو 20 جنوری کے بعد پر کرنے والی ہے، انہوں نے واضح کیاکہ یہ کابینہ میں توسیع صرف مخلوط حکومت میں شامل کانگریس تک ہی محدود رہے گی۔ 20 جنوری کے بعد جے ڈی ایس اپنی وزارت کی نشستوں میں پارٹی کے باصلاحیت لیڈروں کو موقع فراہم کرے گی۔
بورڈ کارپوریشنوں کے چیرمینوں اور پارلیمانی سکریٹریوں کا تقرر
ریاستی کابینہ میں توسیع کے ساتھ سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے لئے چیرمینوں کے تقرر اور وزیر اعلیٰ کے پارلیمانی سکریٹریوں کے تقرر کا بھی اعلان کردیا گیا۔آج کابینہ میں توسیع کے مرحلے میں ان عہدوں کے لئے تقررات کا اعلا ن کرنے کے ساتھ سینئر کانگریس لیڈر اور سابق ریاستی وزیر ایچ کے پاٹل کو کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی کی انتخابی مہم کمیٹی کا چیرمین بھی مقرر کردیاگیا۔ انتہائی اہمیت کے حامل عہدے وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری کے طور پر سدلگٹہ کے رکن اسمبلی بی منی اپا کو مقرر کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ خصوصی نمائندہ برائے دہلی کے طور پر سابق وزیر اعلیٰ دھرم سنگھ کے فرزند ڈاکٹر اجئے سنگھ کو مقرر کیا جارہا ہے۔ ریاستی پلاننگ کمیشن کے نائب چیرمین کے طور پر رکن اسمبلی شرن بسپا درشن پور کا تقررکیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کے پارلیمانی سکریٹریوں کے طور پر 9 لیجسلیٹر س کا تقرر عمل میں آئے گا ، ان میں رکن کونسل اے عبدالجبار، ایوان ڈیسوزا، کے گووند راج اور ایم اے گوپال سوامی شامل ہیں۔ اراکین اسمبلی میں انجلی نمبالکر ، مہانتیش کوجلگی ، روپا ششی دھر، راگھویندرا ہیتنال اور درگپا ہولگری شامل ہیں۔ 20 سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے لئے چیرمینوں کا تقرر بھی کیاگیا ہے۔ اراکین اسمبلی اور ان کے عہدے اس طرح ہیں۔ ڈی کے سنگمیشور ۔کرناٹکا لینڈ آرمی کارپوریشن، آر نریندرا۔ کرناٹکا فوڈ اینڈ سیول سپلائز کارپوریشن، بی نارائن راؤ ۔کرناٹکا فارسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن، ٹی وینکٹ رمنیا ۔کرناٹکا روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ، ڈاکٹر امیش جادھو ۔ کرناٹکا ویرہاؤزنگ کارپوریشن، ٹی رگھومورتی۔ ہٹی گولڈ مائنس لمیٹیڈ، ایس این سبا ریڈی ۔کرناٹکا سلک انڈسٹریز کارپوریشن، یشونت راؤ گوڈا پاٹل۔ کرناٹکا اربن واٹر سپلائی اینڈ ڈرینج بورڈ، بی اے بسوراج۔ کرناٹکا سوپ اینڈ ڈٹرجنٹ لمیٹڈ، بی شیونا۔کیونکس ، ایس این نارائن سوامی۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ڈیولپمنٹ کارپوریشن ، منی رتنا۔ کرناٹکا اسٹیل ڈیولپمنٹ کارپوریشن، شیورام ہیبار۔ شمال مغربی کے ایس آر ٹی سی، این اے حارث۔ بی ایم آر ٹی سی، ایس ٹی سوم شیکھر۔ بی ڈی اے، بی ایس سریش (بائرتی سریش) کے ایس ایس آئی ڈی سی، ڈاکٹر کے سدھاکر۔ پلیوشن کنٹرول بورڈ،لکشمی ہبالکر ۔ میسور منرلس لمیٹیڈ، ٹی ڈی راجے گوڈا ۔ ملناڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی۔